پشاور: سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اہمیت کو دیکھتے ہوئے دنیا بھر میں صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ اور خیبر یونین آف جرنلسٹ کی جانب سے پشاور کے صحافیوں کیلئے ’’ڈیجیٹل میڈیا سے آگاہی اور چیلنجز ‘‘ کے عنوان پر ایک روزہ سیمینار کاانعقاد کیا گیا

 ۔سیمینار کا مقصد صحافیوں کو ڈیجیٹل میڈیا اور سائبر کرائمز بل 2016 کے حوالے سے معلومات فراہم کرنا تھا جس کے تحت ریاستی اہلکاروں اور پی ٹی اے کو لامحدود اختیارات دیئےگئے کہ وہ فیصلہ کرسکیں کہ کیا قانونی ہے اور کیاغیرقانونی۔ سیمنار میں 20 سے زائد صحافیوں نے شرکت کی۔اس موقع پر سماجی تنظیم سرچ فار کامن گراونڈ کے کنٹری ڈائریکٹر اسد جان نے شرکاء کو بتایا کہ سوشل میڈیا کے بعد اب روایتی میڈیا کے مقابلے میں ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے پرنٹ اور الیکڑونک میڈیا تنزولی کا شکار ہے۔


 سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 1997 میں پاکستان میں 4455 مختلف اخبارات شائع ہوتے تھے جن میں روزنامہ ، ہفتہ اور اورماہنامہ اخبارات شامل تھے لیکن 2020 میں ان اخبارات کی اشاعت کی تعداد کم ہو کر صرف 425 رہ گئی ہے جس میں 346 رونامہ چے ، 17 ہفتہ واراور58 ماہنامے شامل ہیں۔ اسی طرح اگر سرکولیشن کو دیکھ لے تو 2007 میں یہ 9.9 ملین تھی جو 2020 میں 3.1 ملین رہ گئی ہے۔انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ #ڈیجیٹل_میڈیا روایتی میڈیا کو چیلنچ کرنے کے ساتھ نئے آنے والے صحافیوں کو روزگار کے نت نئے مواقے بھی فراہم کررہا ہے۔تاہم صحافیوں کو بہت چیلجنز کا بھی سامنا ہے اور سائبر کرائمز بل 2016 کی شکل میں حکومت ِ پاکستان نے اس پر بہت سارے پابندیاں بھی لگائیں ہیں۔انہوں نے اس قانون کی مختلف سییکشنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر چہ اس قانون میں بہت ساری چیزیں جیسے کہ نفرت انگیز تقریر، تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش یا مذہب اور فرقے کی بنیاد پر نفرت پھیلانے پر 5سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ ہوسکتا ہے یا بچوں کیساتھ نازیبا حرکات کی تصاویریا ویڈیوکو پھیلانے پر 7 سال قید اور پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے لیکن اس قانون میں بہت سے ایسے سیکشنز ہیں جس کے تحت پی ٹی اے اور ریاستی اداروں کو لامحدود اختیارات دیئےگئے ہیں کہ وہ فیصلہ کرسکیں کہ کیا قانونی ہے اور کیاغیرقانونی اور اس اختیارات کے تحت صحافیو ں کو کنٹرول کرسکتے ہیں یا ان کیخلاف دائرہ تنگ کرسکتے ہیں۔انہوں نے کئی ایسے مثالیں دیں جیسا کہ اس قانون کے تحت منفی مقاصد کیلئے ویب سائٹ قائم کرنے پر 3سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ، کسی کی تصویر بغیر اجازت شائع کرنے،بے ہودہ پیغامات بھیجنے یا سائبر مداخلت پر ایک سال قید اور 10لاکھ روپے جرمانہ،حساس اور ممنوعہ معلومات تک غیر قانونی رسائی پر 3ماہ قید اور 50ہزار روپے جرمانہ،غیر قانونی طریقے موبائل فون میں تبدیلی کرنے پر 3سال قید اور 10لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی جا سکے گی اور سوشل میڈیا پر ایسے مواد کیخلاف کاروائی کی جاسکتی ہے جو قومی سلامتی کے منافی ہو یا جس میں اداروں کی تضحیک کی گئی ہو۔#اسد_جان نے بتایا کہ اس بات کو کس طرح ثابت کیا جائیگا فلاں بندے نے ویب سائٹ کسی منفی مقاصد کیلئے بنا یا ہے یا جو معلومات دی گئی ہے قومی سلامتی کیخلاف ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ قومی سلامتی کی تعریف کیا ہے اور منفی مقاصد کیلئے ویب سائٹ کی تعریف کیا ہے کہی پر درج نہیں اور اس کی تعین یہ ادارہ کریگا جس کی تحت کسی بھی بھی قانون کے گرفت میں لایا جاسکتاہے ۔ اب کسی کی تصویر بغیر اجازت شائع کرنے کی مثال لے لیں اب اگر آپ نے کسی کیخلاف خبر دی ہو اور ساتھ میں اُس کی تصویر دی ہو اور وہ کہیں یہ تصویر میری مرضی کیخلاف ہے تو آپ کو ایک سال تک قید کی سزاء ہو سکتی ہے۔اسد خان نے سیمنار کے شرکاء کو بتایا کہ آج لڑکے لڑکیاں پورے طور پر جدیدٹیکنالوجی سے منسلک ہوگئے ہیں، ہم چاہ کر بھی ان کو اس سے دور نہیں کرسکتے۔ انہوں نے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان 27 فیصد انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں اور 46 ملین لوگ شوسل میڈیا استعمال کر رہے ہیں ۔ اس کا مطلب کہ ہر پانچ افراد میں سے ایک بندہ شوسل میڈیا استعمال کررہا ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم #سوشل_میڈیا کو مثبت طریقہ پراستعمال کرنے اورصحافت کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ سوشل میڈیا صحافت کا ایک اٹوٹ حصہ بن چکا ہے ساتھ ہی وہ ہمارے معاشرے کا بھی ناگزیر حصہ بنتا چلاجارہاہے ۔


انہوں نے #پاکستان کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے سوشل میڈیا قوانین 2021 کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے پاکستان میں نئے قوانین وضع کرنے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قوانین کے تحت ان کمپنیوں پر تین مہینوں کے اندر اندر پاکستان میں اپنے مستقل دفاتر اور ڈیٹا بیس سرور قائم کر نے کے علاوہ کئی ذمہ داریاں لاگوکی ہیں جن میں کسی بھی آن لائن مواد کو اگر مجاذ حکام پاکستان کے #قوانین کے مخالف پائیں تو سوشل میڈیا کمپنی پر لازمی ہوگا کہ وہ 24 گھنٹوں میں اس کو حذف کریں۔ ہنگامی صورتحال میں سوشل میڈیا کمپنی کو ایسا چھ گھنٹوں میں کرنا ہوگا۔ نیشنل کورڈینیٹر ہی اس بات کا تعین کرے گا کہ ہنگامی صورتحال ہے یا نہیں۔



LINK TO ORIGNAL ARTICLE 

Thank you https://www.facebook.com/sajjadali440

IFJ Asia-Pacific #KhyberUnionofJournalists #Peshawar

#asadjan #digitalsecurity#Internetfreedom#Paksitan#Asadjan